سن 1958 وہ سال تھا جب امانت آئی ہسپتال کی بنیاد جناب ڈاکٹرمحمد اسرار خان نے رکھی۔ اور راولپنڈی شہر کے مریضوں کو یہ سہولت فراہم کی۔ یہ اس وقت کا پہلاآنکھوں کا ہسپتال تھا ۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا، امانت آئی ہسپتال آنکھوں کے علاج میں جدت کے میدان میں ترقی کرتا گیا جو کہ ہمارے بعد آنے والے ہسپتالوں اور ڈاکٹرزکے لئے ایک مشعل راہ ہے۔ آج اس بات کا سہرا راولپنڈی کے شہریوں کے سر پر ہے جنھوں نے امانت آئی ہسپتال پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جس کے لئے ہم ان کا تہے دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ اور یہ سب اللہ تعالی کی خصوصی کرم نوازی ہے۔
ترقی کا یہ سفر اتنا آسان نہ تھا۔ دنیا کی نظر میں پراعتماد نظر آنا آسان ہے مگر اس اعتماد کو برقرار رکھنا ایک مشکل کام ہے۔مگر اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جناب ڈاکٹر محمد اسرار خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے ساجزادے جناب محترم ڈاکٹر عامر اسرار کی انتھک محنت اور کاوشوں سے ہم نے لوگوں کا اعتماد برقرار رکھا اور یہی وجہ ہے کہ تقریبا ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود لوگ ہم پرپہلے سے بھی زیادہ اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
ہم اپنے قابل احترام اور معزز مریضوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ آنکھوں کے علاج کے معاملے میں ہم ان کو دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی چاہے اس کا تعلق جدید ترین سرجدی سے ہو یا تشخیصی مشرین سے ہویا قابل ترین ڈاکٹرز کی صورت دیتے رہیں گے۔
اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یہ سہولیات اب نہ صرف راولپنڈی بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی میسر ہیں جن میں اسلام آباد، لاہور، پشاور اور جہلم شامل ہے، اور انشاء اللہ یہ سہولیات پاکستان کے باقی شہروں میں بھی متعارف کرائی جائیں گے۔